|
خوشي چاہتا ہوں جو اہل جہاں کي
وہ اپني مسرت پہ کيا مسکرائے
ترک تعلقات کا شکوہ نہيں کہ تم
پيہم مري نگاہ ميں جلوہ نما تو ہو
مانا کہ معتبر نہ تھي اس کي کوئي بھي بات
ايسا بھي کيا کہ اس پہ بھروسہ کرونہ اب
زندگي قطرے کي اس اميد پر موقوف ہے
ايک دن آغوش ميں لينے سمندر آئے گا
ملت انہيں کہيں بھي در و بام کا نشاں
ہم گھر ميں رہ کے اتنے تو بے گھر کبھي نہ تھے
ہم دام آرزو ميں خود الجھے ہيں اس طرح
اپنے کئيے ہوئے کي سزا ہو کے رہ گئے
حيات اب حسرت پرواز کيسي
قفس ميں زباں آنے لگے ہيں
|