|
وہ پاس تھےتو ہر اک شے ميں دل دھڑکتا تھا
وہ دور ہيں تو کھٹکتي ہے ہر فضا مجھ کو
وہي جہان محبت کي آبرو بھي ہيں
زمانہ جن کي محبت پہ طنز فرما ہے
دل تڑپتا ہے تو زخموں کو ہوا ملتي ہے
ہم ترے ہجر کا احساس مٹائيں کيسے
سنواردے کوئي اب يوں نظام ہستي کو
دلوں کو زندگي، روحوں کو اعتبار ملے
زندگي خواب حسيں ہے چلو تسليم مگر
ہم کو اس خواب کي تعبير بنادي جائے
|