گدھے سے پوچھتے ہيں لوگ زعفران کا بھائو
شتر کے ناز اٹھاتے ہيں واہ کيا کہناسفرا کا کام کيا ہے اخر ہجز سفر کے
مشرق کے ناز اٹھاتے ہيں واہ کيا کہنا
گنجے کو خڈا ناخون نے دے
بہرے کو ٹيلي فون نہ دے
کتا معيار زندگي ہے بلند
نرخ ہر شے کے چاند تارا ہے
جس نے لاکھوں کي اتاري ہو سنہري پگڑياں
اس کا اک مسجد کا بنوانا کوئي مشکل نہيں
زن الگ شے ہے جدا چيز ہے شوہر ہونا
باعث خطرہ ہے دونوں کا برابر ہونا
حسن خود ہي دے رہا ہے دعوت ديدار عام
جذبہ شرم و حيا بھي آئوٹ آف اسٹاک ہے
افرس کي گاڑي سے ذرا بچ کے رہو دوست
کچھ اس ميں بھي گھوڑے کي پچھاڑي کا اثر ہے
ظرافت، ملاحت، سلاست، رواني
ان اشعار ميں ناز ہر چيز بھر دي |