ديدہ بے خواب سے پيدا ہر نقش خيال
کيمائے غم مرے ادراک سے پيدا ہوادو چار ہي قدم پہ تو ہے منزل مراد
اپنے قدم کو اور ذرا تيز کيجئے
رو ديا کرتا ہوں جب ياد وفا آتي ہے
غم ارباب محبت بھي غضب ہوتا ہے
جسے وہ کہتے ہيں الفت کا آخري انعام
گداز قلب و جگر کے سوا کچھ اور نہيں
متاع زيست کيا لپٹي ہوئي ہے
کسي کي زلف ہائے پرشکن ميں
بہت روز ان ميں مقيد رہا ہوں
مجھے تيري زلفوں کے خم جانتےہيں
يہ عالم يہ ہنگامہ صوت و صورت
فقط زندگي تک،فقط زندگي تک
تو نہيں ہوتا تو ہم ہوتے ہيں اپنے غم ميں
ہم کہاں ہوتے ہيں جب سامنےتو ہوتا ہے
|