وہ جو بھي تھا وہ تو گل بداماں تھا
ہم ہي روٹھے رہے بہاروں سےحقيقت ہے ہمارے رہبروں کي کاميابي ميں
نہاں کچھ کچھ ہماري سادگي معلوم ہوتي ہے
يہ کہکشاں ميري محبت کي ہے زنجير
يہ چراغ ميرے پائوں کا چکر نظر آيا
رمز الفت نہاں نہيں ہوتي
ليکنہم سے بياں نہيں ہوتي
نياز و ناز دونو دم بخود ہيں اور ہوتا ہے
سوال آہستہ آہستہ جواب آہستہ آہستہ
شرمندہ کرکے اور بھي تابندہ کرديا
لغزش يہ تيري ديدہ حيرت نہيں درست
دل کس لئے ہے اس کے تغافل کا شکوہ سنج
الفت ہو جس سے اس کي شکايت نہيں درست
گمنام ہي رہو يہي بہتر ہے اب ظفر
اس دور ناشناس ميں شہرت نہيں درست
|