|
موج نسيم صبح نہ جوش نمو سے تھا
جو پھول سرخرو تھا خزاں کے لہو سے تھ
تيرے سکوت نے اسے ويران کر ديا
دل باغ باغ تھا تو تري گفتگو سے تھ
اب دل کے ريگزار ميں وہ چاندني کہاں
اپنا بھي ربط و ظبط کسي ماہ رو سے تھ
مدت ہوئي کہ دل کا وہ گلشن اجڑ گيا
شاداب جو تيے نفس مشکبو سے تھ
خواب و خيال ہيں وہ نشاط آفرينياں
رقص بہار دل ميں تري آرزو سے تھ
سوئے ادب کہوں کہ اسے بے تکلفي
راغب بجائے آپ مخاطب وہ تو سے تھا
|