اعمال سے ميں اپنے بہت بے خبر چلا
آيا تھا آہ کس لئے اور کيا ميں کر چلاہے فکر وصل صبح تو اندوہ ہجر شام
اس روزو شب کے دھندے ميں اب ميں تو مر چلا
کيا اس چمن ميں آن کے لے جائے گا کوئي
دامن کو ميرے سامنے گل جھاڑ کر چلاطوفان بھرے تھاپاني جن آنکھوں کے سامنے
آج ابر ان کے آگے زميں کرکے تر چل
|