بہنا کچھ اپني چشم کا دستور ہوگيا
دي تھي خدا نے آنکھ سو نامور ہوگيابھٹکي پھرے ہے کب سے خدايا مري دعا
دروازہ کيا قبول کا معمور ہوگي
اخوش ہيں شکتہ بالي سے اپني ہم اس لئے
پرواز کا تو دل سے خلش دور ہوگيا
شب آگيا جو بزم ميں پيارے تويک بيک
چہرے سے رنگ شمع کے کافور ہوگيا
سودا کو کہتے ہيں کہ اس سے مصاحبت
کعنا غلط يہ حرف بھي مشہور ہوگيا |