بلبل نے جسے جاکے گلستان ميں ديکھا
ہم نے اسے ہر خار بيابان مين ديکھاروشن ہے وہ ہر ايک ستارے ميں زليخا
جس نور کو تو نے مہ کنعان ميں ديکھا
اے زخم جگر سودھ الماس سے خوکر
کتنا وہ مزہ تھا جو نمک دان ميں ديکھاسودا جو ترا حال ہے اتنا تو نہيں وہ
کيا جانئيے تو نے اسے کس آن ميں ديکھا
|