ڈرتے ڈرتے جو ترے کوچے ميں آجاتا ہوں
صيد خيائف کي طرح روبہ قفا جاتا ہوںنہ تلف نہ محبت نہ مروت نہ وفا
سادگي ديکھ کر اس پر بھي ملا جاتا ہوں
طائر رنگ حنا کي نمط اب اے صياد
ہوں تو ميں ہاتھ ميں تيرے پہ اڑاجاتاہوںکوئي تعمير کے درپے نہيں ميرے يہبات
شکل ديوار خرابے کي گرا جاتا ہوں
فکر موزوں کرنےکو گرفتار مرے
ہوں ميں مضمون تري باتوں ميں بندھا جاتا ہوںگرم جوشي نہ کرو مجھ سے کہ مانند چنار
اپني ہي آگ ميں ميں آپ جلا جاتا ہوں
ہوں ميں وہ وحشي رم خوردہ کہ تادشت عدم
پات کھڑکے ہے تو مانند صدا جاتا ہوںصفہ ہستي پہ اک حرف غلط ہوں سودا
جب مجھے ديکھنے بيٹھو تو اٹھا جاتا ہوں
|