دل مت ٹپک نظر سے کہ پايا نہ جائے گا
جوں اشک پھر زميں سے اٹھايا نہ جائے گارخصت ہے باغباں کہ ٹک ديکھ ليں چمن
جاتے ہيں واں جہاں سے پھر آيا نہ جائے گا
عمامے کو اتار کے پڑھيوں نماز شیخ
سجدے سے ورنہ سر کو اٹھايا نہ جائے گاظالم ميں کہہ رہا ہو کہ اس خوں سے در گزر
سودا کا قتل ہے يہ چھپايا نہ جائے گا
|