گلہ مکھوں ميں اگر تيري بے وفائي کا
لہو ميں غرق سفينہ ہو آشاني کامرے سجود کي دير و حرم سے گزري قدر
رکھوں ہوں دعوي ترے درپہ جبہ سائي کا
کبھو نہ پہنچ سکے دل سے تازباں اک حرف
اگر بياں کروں طالع کي نارسائي کا
دکھائوں گا زاہد اس آفت ديں کو
خلل دماغ ميں تيرے ہے پارسائي کا
طلب نہ چرغ سے کرنا راحت اے سودا
پھرے ہے آپ يہ کاسہ لئے گدائي کا
|