|
نہ اشک سے بہتے ہيں نہ دل سے اٹھتي ہيں آہيں
سبب کيا کاروان درد کي مسدور ہيں راہيں
بخان کي دوستي سے مطمئن ہووے سو کافر ہو
يہ ظالم مار ڈاليں بات کہتے ہيں جسے چاہيںروئے ہيں زور ہم اس سرزميں پر چاہے دہقان
بجائے دانہ دل بوديں اگر اب کے زميں گاہيں
مرے گلشن ميں کب نالہ ترا ہو سبزاے قمري
بجائے سردياں خاک چمن سے اگتي ہيں آہيں
نہ پہنچا منزل مقصود کو مجنون بھي اے سودا
سمجھ کر جائيو مرتے ہيں ملک عشق کي راہيں
|