|
سجدہ کيا صنم کو
ميں دل کےکشت ميں
کہہ اس خدا اسے شيخ جو ہے سنگ و خشت ميں جوں تاک اينڈتے ہيں پڑے ميکدوں ميں مست
زاہد بھلا يہ عيش ہيں باغ بہشت ميں؟گزارا ہے آب چشم مرے سر سے بارہا
ليکن نہ وہ مٹا کہ جو تھا سر نوشت ميں
ہرگز نہ مر تو قصر فريدوں کے رشک سے
جاگہ کر اپني دوست دل خوب وزشت ميں
سودا کو شمع بزم جو کہتے تو تھا بجا
ہے اشک آہ سو ختن اس کي سرشت ميں
|