ٹوٹے تري نگہ سے اگر دل احباب کا
پاني بھي پھر پئيں تو مزہ ہے شراب کادوزخ مجھے قبول ہے اے منکر و نکير
ليکن نہيں دماغ سوال و جواب ک
ازاہد سبھي ہے نعمت حق جو ہے کل و شرب
ليکن عجب مزہ ہے شراب و کباب
کاقطرہ گرا تھا جو کہ مرے اشک گرم سے
سودا نگاہ ديدہ تحقيق کے حضور
جلوہ ہر ايک ذرے ميں ہے آفتاب کا
|