اس نے ديکھا ہے مسکرا کے مجھے
ايک مرکز پہ ہيں حيات و اجلنقوش پا مرے صحرا ميں آندھيوں نہ مٹائو
سہارے ان کے کئي کاروں گزرتے ہيں
دل مرا مائل ريا نہ ہوا
ميں کبھي اتنا پارسا نہ ہوا
حال دل مختصر ہے سن ليجئے
مسکرائے ہميں زمانہ ہوا
کہاں ممکن بھلا ترک تعلق آپ سے ليکن
ہمارے دل ميں اکثر يہ خيال عام آتا ہے
آرزو کے ہجوم ميں اکثر
تو ہي تنہا مجھے نظر آيا
ميں اپني راہ چلا ہوں، ہوا کے ساتھ نہيں
يہ اور بات ہے کہ اکثر ہوا نے ساتھ ديا
|