|
خدا کا قرب ہميں بخشتے ہيں وہ لمحات
اميدو بيم کے جو درمياں گزرتے ہيں
رسوا کرے گي يہ جو نمي چشم تر ميں ہے
پي جائو اشک بات ابھي گھر کي گھر ميں ہے
سکون ہجر ميں غم ميں نشاط درد ميں کيف
شعور عشق نے جادو جگائے ہيں کيا کيا
بس ايک ساعت صبح اميد اس کے بعد
تمام عمر شب انتظار گزري ہے
سادگي کے بارے ميں دلکشي کے بارے ميں
سوچتا ہوں ميں اکثر آپ ہي کے بارے ميں
سننے والوں نے قيامت کے سننے افسانے
ديکھنے والوں نے انداز تمہارے ديکھے
وہ پھر سحر ہوئي پھر آنکھ سے لہو ٹپکا
نسيم صبح کي عادت ہے گل کھلانے کي
مئے پرستي غلط مگر ناصح
وہ تقاضا جو چشم يار ميں ہے
برا کہے کوئي کھل کر تو کوئي بات نہيں
دبے دبے سےاشارے گراں گزرتے ہيں
جو عيب مجھ ميں تھے اے راز مٹتے جاتے ہيں
کہ عرم خضر ملے ميرے نکتہ چينيوں کو
|