ہوا کے رخ پہ دنيا جارہي ہے
دھواں جيسے چراخ رہگزر کاياد ميں ڈھل کے جواب چارہ گري کو آئي
يہ اداب کب سے تري بے خبري کو آئي
گھبرائيں کيا کشاکش اميد و بيم سے
اک عمر کٹ گئي ہے اسي دھوپ چھائو ميں
اس سايہ شجر سے کڑي ديوں کا بجھنا بھي
اک قصيدہ ہوا کي شان ميں تھا
دل کے ايسے عالم کا کوئي نام تو ہوگا
جب ہنسي محبت ميں غم کي بات پر آئے
ترے تغافل بے جا کو ہم بھي ديکھيں گے
کبھي ہماري نظر سے نظر ملے تو سہي
سبھي کے بس کا نہيں دشت آگہي کا سفر
وہ کوئي ميري طرح سر پھرا ہي ہوتا ہے
اکثر تو خشک ہي مري آنکھيں رہيں مگر
يوں بھي ہوا دئيے سے ديا جل اٹھا کبھي
نہ جانے اور کتنا فاصلہ ہے
ہماري زندگي سے زندگي کا
کسي جشم کرم پر نہ جائيں اہل طلب
کہ اس مقام سے ہم بھي گزر کر آئے ہيں
|