نور خدا کا عکس رخ مصطفے ميں ہے
روشن يہ آئينہ نہيں آئينہ گر سے کم وہ مسلسل روشني ہيں وہ سحر اندر سحر ہيں
ان کے ہي نقش قدم پر مادہ انجم کے سفر ہيں
نغمگي اسم محمد سے ہے اس دنيا ميں
قريہ صورت و صدا کے سارے نغمے بے اثر ہيں
ديوان اور دل ميں مرے فرق ہے کہاں
دونوں سميت لايا ہوں سرکار لے حضور
ميں اسي قطرے سے صبہا کتنے دريا لکھ چکا ہوں
اس دريا سے اٹھا کر جو مجھے قطرہ ديا
|