ہرقدم پر کوئي نشاني ہے
يہ زميں کس قدر پراني ہےبچوں کي سي خواہش سہي پر ہے مرے دل ميں
جو ختم خوشي پر ہو کر کہاني وہ سنا دے
اک قبيلے ميں تھا سردار کا بيٹا شاعر
اس قبيلے کو کبھي خوں نہ بہاتے ديکھا
کتنا آسان ہے تمہارے لئے
کيوں کسي کا بھلا نہيں کرتے
ايک لمحے کو سوچنے والا
ايک عرصے کے بعد بولا ہے
کيوں اور کوئي آئے يہاں ميں بھي خوش نہيں
قدموں کے اپنے خود ہي مٹاتا چلوں نشاں
|