جو ہونے والا ہے وہ سوچتے رہو خود ہي
کسي بھي شخص سے اس کا خيال مت پوچھواک دائرہ کہ جس سے ہيں گردش ميں دائرے
اس زاويے سے ديکھا ہے کس نے جہان کو
جو ابتدا ميں الگ سوچنے کي حد تک تھا
عجيب ہوگيا آخر وہ ديکھنے ميں بھي
ويران مقبروں پہ کھڑے ہوکر سوچنا
کيا سودمند ہے؟ کسے کار زياں کہيں؟
ميں ڈھونڈتا ہوں کہ ساتھي کوئي ملے ايسا
جو ميرے ساتھ رہے اور ميں رہوں تنہا
سفر ہے اس کا بلندي سے پستيوں کي طرف
اگر نہ شور مچائے تو کيا کرے دريا
يہ سمندر کر لرز جاتي ہے دنيا جس سے
چاند کرتا ہے اسے ايک نظر سے پاگل
ملال ميرے لئے تو ہيں ايک جيسے سب
مگر ميں سب کو يہاں مختلف نظر آيا
بويا تھا شک کابيج کھلے ذہن ميں ملال
کونپل يقين کي نکل آئي گمان سے
بدن کو چاہے آب و ہوا ميں کي ملال
خيال ميرا خلائوں کے خواب کھلائے
|