|
سفر ہے اس کا بلندي سے پستيوں کي طرف
اگر نہ شور مچائے تو کيا کرے دريا
يہ سمندر کر لرز جاتي ہے دنيا جس سے
چاند کرتا ہے اسے ايک نظر سے پاگل
ملال ميرے لئے تو ہيں ايک جيسے سب
مگر ميں سب کو يہاں مختلف نظر آيا
بويا تھا شک کابيج کھلے ذہن ميں ملال
کونپل يقين کي نکل آئي گمان سے
بدن کو چاہے آب و ہوا ميں کي ملال
خيال ميرا خلائوں کے خواب کھلائے
|