ہوائے ترک تعلق چلي ہے دھيان رہے
مگر يہ بات ہمارے ہي درميان رہےاب يہ موسم ميري پہچان طلب کرتے ہيں
ميں جب آيا تھا يہاں تازہ ہوا لايا تھا
ميں خود ہوں انا پرست ورنہ
توتو مرا مسئلہ نہيں تھا
نگاہ اور راستے کے دکھ تو روشني سے تھے
چراغ بجھ گئے تو مرا مہمان آگيا
ہر ہجر ميں وصال کرديا ہے
تو نے تو کمال کرديا ہے
تمہيں کہتا تھا خاک ميں تاثير بھي ہے
ادھر ديکھو مافر لوٹ کر آنے لگے ہيں
وہ چہرہ ہٹ چکا ہے کب کا ليکن
دريچے ميں ابھي تک روشني ہے
|