جس کو ہر سانس ميں محسوس کيا ہم نے
ہم اسے ڈھونڈتے نکليں تو زمانے لگ جائيں گےہر آنکھ پہ کھلتي نہيں آئينے کي حيرت
ہر آئينہ رکھتا نہيں حيرت کو چھپا کر
کبھي تو کشمکش وقت رک بھي جا کہ يہ شخص
ترے حصار سے نکلے تو اپنے گھر جائے
وہ پرندہ جسے پرواز سے فرصت ہي نہيں تھي
آج تنہا ہےتو ديوار پہ آبيٹھا ہے
دل کے شيشے پر نہ لکھو راز کي باتيں کبھي
آنکھ کي کھڑکي کھلي ہے عکس باہر آئے گا
ميں بھي چہرے سے عياں ہو کے رہا
تو بھي اک پل نہ چھپا آنکھوں ميں
وہي ہوا نا اپنے سائے سے بچ رہے ہو
کہا نہيں تھا رہ محبت ميں تہمتيں ہيں
تو بھي کوئي پارسا نہيں تھا
مجھ سے بھي گناہ ہوگيا تھا
اک بار وقت چھوڑ گيا تھا يونہي ہميں
پھر اسکا ساتھ تک کبھي ہم نے نہيں ديا
سليم اتني شناسائي بھي غنيمت ہے
گلي کے لوگ مرا گھر تو بتا ديتےہيں
|