ہم ناوائي کيا کرے احساس کي
دسترس ہے ساز کي مضراب تکبند ہے کب سےمرے طاق کي ويراني ميں
رونقيں شب کي مرے گھر کا ديا کيا جانے
کيا خبرتھي کہ ہے دنيا ميں فسوں ايسا بھي
آدمي اپنے کمالات سے ڈر جائے گا وہ جن کو آتا ہے فن اپني بات کہنے کا
کبھي وہ لوگ دريدہ دہن نہيں ہوتے اپنے بجھتے ہوئے لفظوں کا اعادہ کرنے
ہم سخن حرف مکرر سے چلے آئے ہيں خود بھول گيا راہ مري راہ ميں آکر
تھا اس کو گلہ مجھ سے مري بے خبري کا اب اپنے آپ کو کس نام سے پکاريں ہم
تمام حسن تخاطب تو اس کے نام ہوا ہونٹوں سے بات بڑھ کے نگاہوں ميں آگئي
ايسے بھي کچھ کنائے سرگفتگو ہوئے رخ در و بام کے ہيں اپني بلندي کي طرف
اپني بنياد سے واقف نہيں تعمير ابھي |