وہ شہر چاہتوں کے تو کب کے اجڑ گئے اک ذکر دوستاں کے سوا کچھ نہيں رہا
آنکھوں کا اعتبار گيا حسن ديد سے مجھ ميں مرے گا گماں کے سوا کچھ نہيں رہا
تمام عمر نہ مانوس ہوسکے مجھ سے يہ کون لوگ صمد ميرے گھر ميں رہتے ہيں