|
خزاں نے موسم گل پر جہاں بھي طنز کيا
کوئي کلي وہيں چپکے سے مسکرادي ہے
کھڑکياں کس نے کھول ديں گھر کي
روشني آرہي ہے باہر کي
در و ديوار کو مکان کہا
يہي اوقات رہ گئي گھر کي
يہ زندگي کے تضادات ہي تو ہيں شايد
کہ لمحہ لمحہ ہے اپنے وجود کي ترديد
ترے وجود کي جب سے تلاش ہے مجھ کو
ترا گماں بھي مري دسترس سے باہر ہے
جہل کے اس آشوب نوا ميں
چپ رہنا بھي ايک ہنر ہے
غم کے بادل ديدہ تر سے
جھوم رہنا بھي ايک ہنر ہے
خلوص ختم ہوا اعتبار ختم ہوا
خسارہ جس ميں تھا وہ کاروبار ختم ہوا
اس پر نہ قدم رکھنا کہ يہ راہ وفا ہے
سر شار نہيں ہو کہ گزر جائوگے لوگو |