چاند نے حضرت انساں سے کہا خوش ہو کر
ہونے ہي والا ہے نوري سے وصال خاکيکہا اس نے کہ نہيں آپ کے قابل يہ ديار
ہيرويشما ہے يہاں، کوئي نہ ناگاساکي
اک ہے مطلقا حرام ايک ہے بسربرس مباح
عيش زنا ہے اور کچھ کيف نکاح اور ہے
کھوٹۓ کھرے کے درمياں تجھ کو تميز چاہئيے
فحش و ہزل کے آشنا طنز و مزاح اور ہے
پوچھا ميں نے ديوتا سے موت کے
راج کے درجے ہيں کہ اے پامراج
ہنس کے بولا راج کے ہيں تين نام
سامراج و رام راج و کام راج
فلاح قوم سے خالي اصلاح ملک سے عاري
ادھر بے سود تقريريں ادھر بے کار تحريں
يقين مبہم، عمل مندھم، تعصب دشمن عالم
جہاد انتخابي ميں، يہ ہيں ليڈر کي شمشيريں
بوسہ تو ہے کيا وصل سے انکار نہيں
دنيا ميں عجب چيز ہے انگلش ليڈي
کھل جاتي ہے رکھتے ہي سوچ پر انگلي
کہتے ہيں اسي ٹارچ کو ايور ريڈي
الفت شاہد مجازي ميں
چھوڑ بيٹھا محبت يزاں
ذکر بالجہر کي کہاں فرصت
فکر في المہر ميں ہوں سرگرداں
آتے ہي فصل سرما ہر گھر ميں عورتوں نے
سب بند کردئيے ہيں دنيا کے کام دھندے
بنتي ہے ايک سوئٹر، سيتي ہے اک رضائي
يہ ڈالتي ہے ڈورے وہ ڈالتي ہے پھندے
|