شکيب کے انتقال
کے چند روز بعد ان کي بيوہ کي طرف سے مجھے کاغذات کا انبار موصول
ہوا، جو شکيب کے کلام کے تراشوں اور ان کي چند نا مکمل بياضوں پر
مشتمل تھا، ان کے مطالعے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ شکيب کے ابتدائي
کلام کا انتخاب نہايت ضروري ہے۔
اس مجوعے کا نام "روشني اے روشني" خود شکيب مرحوم کا تجويز کردہ ہے،
قارئين سے استدعا ہے کہ اگر اس کے مطالعے کے بعد انہيں محسوس ہو کہ
شکيب کي کوئي اہم غزل يا نظم مجموعے ميں شامل نہيں ہوسکي تو اس کي
نقل بھجواکر ممنون کريں تاکہ آئندہ اشاعت ميں يہ کمي پوري کر دي
جائے۔ |