|
خموشي بول اٹھے، ہر نظر پيغام ہوجائے
يہ سناٹا اگر حد سے بڑھے کہرام ہوجائے
ستارے مشعليں لے کر مجھ بھي ڈھونڈنے نکليں
ميں رستہ بھول جائوں، جنگلوں ميں شام ہوجائے
ميں وہ آدم گزيدہ ہوں جو تنہائي کے صحرا ميں
خود اپني چاپ سن کر لرز براندام ہوجائے
مشال ايسي ہے اس دور خرد کے ہوش مندوں کي
نہ ہو دامن ميں ذرہ اور صحرا نام ہوجائے
شکيب اپنے تعارف کيلئے يہ بات کافي ہے
ہم اس سے بچ کے چلتے ہيں جو راستہ عام ہوجائے
|