|
خزاں کے چاند نے پوچھا يہ جھک کے کھڑکي ميں
کبھي چراغ بھي چلتا ہے اس حويلي ميں
يہ آدمي ہيں کہ سائے ہيں آدميت کے
گزر ہوا ہے مرا کس اجاڑ بستي ميں
جھکي چٹان پھسلتي گرفت جھولتا جسم
ميں اب گرا ہي گرا تنگ و تار گھاٹي ميں
زمانے بھر سے نرالي ہے آپ کي منطق
ندي کو پار کيا کس نے الٹی کشتي ميں
جلائےکيوں اگر اتنے ہي قيمتي تھے خطوط
کريدتے ہو عبث راکھ اب انگيٹھي ميں
عجب نہيں جو اگيں ياں درخت پاني کے
کہ آشک بوئے ہيں شب بھر کسي نہ دھرتي ميں
|