|
کنار آب کھڑا خود سے کہہ رہا ہے کوئي
گماں گزرتا ہے يہ شخض دوسرا ہے کوئي
ہوا نےتوڑ کے پتہ زميں پہ پھينکا ہے
کہ شب کي جھيل ميں پتھر گرا ديا ہے کوئي
بٹا سکے ہيں پڑوسي کسي کا درد کبھي
يہي بہت ہے کہ چہرے سے آشنا ہے کوئي
درخت راہ بتائيں ہلا ہلا کر ہاتھ
کہ قافلے سے مسافر بچھڑ گيا ہے کوئي
چھڑا کے ہاتھ بہت دور بہہ گيا چاند
کسي کے ساتھ سمندر ميں ڈوبتا ہے کوئي
يہ آسمان سے ٹوٹا ہوا ستارہ ہے
کہ دشت شب ميں بھٹکتي ہوئي صدا ہے کوئي
|