|
کيا کہيے کہ اب اس کي صدا تک نہيں آتي
اونچي ہوں فصيليں تو ہوا تک نہيں آتي
شايد ہي کوئي آسکے اس موڑ سے آگے
اس موڑ سے آگے تو قضا تک نہيں آتي
وہ گل نہ رہے نکبت گل خاک ملے گي
يہ سوچ کے گلشن ميں صبا تک نہيں آتي
اس شور تلاطم ميں کوئي کس کو پکارے
کانوں ميں يہاں اپني صدا تک نہيں آتي
خوددار ہوں کيوں آئوں در ابل کرم پر
کھتي کبھي خود چل کے گھٹا تک نہيں آتي
اس دشت ميں قدموں کے نشاں ڈھونڈ رہے ہو
پيڑوں سے جہاں چھن کےضياء تک نہيں آتي
|