|
کوئي ديکھے تو سہي يار طر حدا کا شہر
ميري آنکھوں ميں سجا ہے لب و رخسار کا شہر
دشت احساس ميں شعلہ سا کوئي لپکا تھا
اسي بنياد پہ تعمير ہوا پيار کا شہر
اس کي ہر بات ميں ہوتا ہے کسي بھيد کا رنگ
وہ طلسمات کا پيکر ہے کہ اسرار کا شہر
ميري نظروں ميں چراغاں کا سماں رہتا ہے
ميں کہيں جائوں مرے ساتھ ہے دلدار کا شہر
يوں تري گرم نگاہي سے پگھلتے ديکھا
جس طرح کا نچ کا گھر ہو مرے پندارہ کا شہر
دل کا آفاق سمٹتا ہي چلا جاتا ہے
اور پھيلے گا کہاں تک در و ديوار کا شہر
مسکراتے رہيں سينے کي دہکتے ہوئے داغ
دائم آباد رہے درد کي سرکار کا شہر
|