|
کچھ دن اگر يہي رہا ديوار و در کا رنگ
ديوار و در پہ ديکھنا خون جگر کا رنگ
بھولا نہيں ہوں مقتل اميد کا سماں
تحليل ہورہا تھا شفق ميں سحر کا رنگ
دنيا غريق شعبدہ جام جم ہوئي
ديکھے گا کون خون دل کو زہ گر رنگ
الجھتے ہوئے دھويں کي فضا ميں ہے اک لکير
کيا پوچھتے ہو شمع سر رہ گزر کا رنگ
دامان فصل گل پہ خزاں کي لگي ہے چھاپ
ذوق نر پہ بار ہے برگ و ثمر کا رنگ
جمنے لگي شکيب جو پلکوں پہ گرد شب
آنکھوں ميں پھلينے لگا خواب سحر کا رنگ
|