|
لہو ترنگ
جنگ آزادي ١٨٥٧ کے شہيدوں کي ياد ميں
پہلي آواز
ہميں قبول نہيں زندگي اسيري کي
ہم آج طوق و سلال کو توڑ ڈاليں گے
ہمارے ديس پہ اغيار حکمراں کيوں ہوں
ہم اپنے ہاتھ ميں لوح و فلم سنبھاليں گے
فضا مہيب سہي، مرحلے کٹھن ہي سہي
سفينہ حلقہ طوفاں سے ہم نکاليں گے
نقوش راہ اگر تيرگي ميں ڈوب گئے
ہم اپنے خوں سے ہزاروں ديے جلاليں گے
|