|
ميں خاکداں سے نکل کر بھي کيا ہوا آزاد
ہر اک طرف سے مجھے آسماں نے گھيرا تھا
اتر گيا ترے دل ميں تو شعر کہلايا
ميں اپني گونج تھا اور گنبدوں ميں رہتا تھا
ادھر سے بارہا گزارا مگر خبر نہ ہوئي
زير سنگ خنک پانيوں کا چشمہ تھا
وہ اس کا عکس بدن تھا کہ چاندني کا کنول
وہ نيلي جھيل تھي يا آسماں کاٹکڑا تھا
ميں ساحلوں ميں اترا کر شکيپ کيا ليتا
ازل سے نام مرا پانيں پہ لکھا تھا
|