مکان اور نہيں ہےبدل گيا ہے مکيں افق وہ ہي ہے مگر چاند دوسرا ہے کوئي
فصيل جسم پہ تازہ لہو کے چھينٹے ہيں حدود وقت سے آگے نکل گيا ہے کوئي
شکيب ديپ سے لہرا رہے ہيں پلکوں پر ديار چشم ميں کيا آج رت جگا ہے کوئي