سايہ نہيں تھا نيند کا آنکھوں ميں دور تک بکھرے تھے روشني کے نگين آسمان پر
حق بات آکے رک سي گئي تھي کبھي شکيب چھالے پڑے ہوئے ہيں ابھي تک زبان پر