مري نگاہ سے چھپ کر کہاں رہے گا کوئي کہ اب تو سنگ بھي شيشہ دکھائي ديتا ہے
سمٹ کے رہ گئے آخر پہاڑ سے قدم بھي زميں سے ہر کوئي اونچا دکھائي ديتا ہے
کھلي ہے دل ميں کسي کے بدن کي دھوپ شکيب ہر اک پھول سنہرا دکھائي ديتا ہے