|
ميٹھے چشموں سے خشک چھائوں سے دور
زخم کھلتے ہيں تر گائوں سے دور
سنگ منزل نے لہو اگلا ہے
دور ہم باديہ پيمائوں سے دور
کتني شميں ہيں اسير فانوس
کتنے يوسف ہيں زليخائوں سے دور
کشت اميد سلگتي ہي رہي
ابر برسا بھي تو صحرائوں سے دور
جور حالات بھلا ہو تيرا
چين ملتا ہے شناسائوں سے دور
جنت فکر بلاتي ہے چلو
دير و کعبہ سے کليسائوں سے دور
|