|
موج غم اس لئے شايد نہيں گزري سر سے
ميں جو ڈوبا تو نہ ابھروں گا کبھي ساگر سے
اور دنيا سے بھلائي کا صلہ کيا ملتا
آئنہ ميں نے ديکھا تھا کہ پتھر برسے
کلتني گم سم مرے آنگن سے صبا گزري ہے
اک شرر بھي نہ اڑا روح کي خاکستر سے
پيار کي جو سے گھر گھر ہے چراغاں ورنہ
اک بھي شمع نہ روشن ہو ہوا کے ڈر سے
اڑتے بادل کے تعاقب ميں پھرو گے کب تک
درد کي دھوپ ميں نکلا نہيں کرتے گھر سے
کتني رعنائياں آباد ہيں ميرے دل میں
اک خرابہ نظرآتا ہے مگر باہر سے
|