|
مجھ سے ملنے شب غم اور تو کون آئے گا
ميرا سايہ ہے جو ديار پہ جم جائے گا
ٹہرو ٹہرو مرے اضما خيالي ٹہرو
ميرا دل گوشہ تنہائي ميں گھبرائے گا
لوگ ديتے رہے کيا کيا نہ دلاسے مجھ کو
زخم گہرا سہي زخم ہے بھر جائے گا
عزم پختہ ہي سہي ترک وفا کا ليکن
منتظر ہو کوئي آکر مجھے سمجھائے گا
آنکھ جھپکے نہ کہيں، راہ اندھيري ہي سہي
آگےچل کر وہ کسي موڑ پہ مل جائے گا
دل سا انمول رتن کون خريدے گا شکيب
جب بکے گا تو يہ بے دام ہي بک جائے گا
|