|
نئي کرن
جہاں پناہ سسکنے لگي چراخ کي لو
شعاع تازہ سے چھلني ہے سينہ ظلمات
بلند بام ہراسان ہيں رہ نشينوں سے
اک ايسے موڑ پہ آئي ہے گردش حالات
جسے بھي ديکھيے لب پر سجائے پھرتا ہے
نرالے دور کا قصہ اچھوتے دور کي بات
جنہيں تھا حکم خموشي وہي پکار اٹھے
ہميں بھي اذان تبسم ہميں بھي اذان حيات
طلب ہوئي ہے جنہيں بے کراں اجالوں کي
سراب نجم و قمر سے بہل نہيں سکتے
نئي کرن سے اندھيروں ميں برہمي ہي سہي
نہي کرن کو اندھيرے نگل نہيں سکتے
جہاں پناہ جمال سحر کي جوئے رواں
افق افق کو درخشاں بنا کے دم لے گي
پلک پلک سے مٹائے گي داغ اشکوں کے
نظر نظر کو تبسم سکھا کے دم لے گي
|