|
رکھتا ہے خود سے کون حريفانہ کشمکش
ميں تھا کہ رات اپنے مقابل ہي ڈٹ گيا
جس کي اماں ميں ہوں وہ ہي اکتا گيا نہ ہو
بونديں يہ کيوں برستي ہيں، بادل تو چھٹ گيا
وہ لمحہ شعور جسے جانکني کہيں
چہرے سے زندگي کت نقابيں الٹ گيا
ٹھوکر سے ميرا پائوں تو زخمي ہوا ضرور
رستے ميں جو کھڑا تھا وہ کہسار ہٹ گيا
اک حشر سا بپا تھا مرے دل ميں اے شکيب
کھوليں جو کھڑکياں تو ذرا شور گھٹ گيا
|