|
رعنائي نگاہ کو قالب ميں ڈھاليے
پتھر کے پيرہن سے سراپا نکاليے
گزار ہے دل سے جو رم آہو سا اک خيال
لازم ہے اس کے پائوں ميں زنجير ڈالئيے
دل ميں پرائے درد کي اک ٹيس بھي نہيں
تخليق کي لگن ہے تو زخموں کو پاليے
يہ کہر کا ہجوم در دل پہ تابہ کے
بام يقيں سے ايک نظر اس پہ ڈالئيے
احساس ميں رچائيے قوس قزح کے رنگ
ادارک کي کمند ستاروں پہ ڈالئيے
ہاں کوزہ ہائے گل پہ تنقيد کيا ضرور
گرہو سکے تو خاک سے خورشيد ڈھالئيے
|