|
سفير
ميں روشني کا مغني کرن کرن کا سفير
وہ سيل مہ سے کہ رود شرا سے آئے
وہ جام مے سے کہ چشم نگار سے آئے
وہ موج باد سے يا آبشار سے آئے
وہ دست گل سے کہ پائے فگار سے آئے
وہ لوح جاں سے کہ طاق مزار سے آئے
وہ قصر خواب سے يا خاک زار سے آئے
وہ برگ سبز سے يا چوب دار سے آئے
جہاں کہيں ہو دل داغ دار کي تنوير
وہيں کھليں مري بانہيں وہيں کٹے زنجير
|