|
سايہ کيوں جل کر ہوا خال تجھے کيا معلوم
تو کبھي آگ کے دريائوں ميں اترا ہي نہيں
موتي کيا کيا نہ پڑے ہيں تہ دريا ليکن
برف لہروں کي کوئي توڑنے والا ہي نہيں
اس کے پردوں پہ منقش تري آواز بھي ہے
خانہ دل ميں فقط تيرا سراپا ہي نہيں
حائل راہ تھے کتنے ہي ہوا کے پر بت
تو وہ بادل کہ مرے شہر سے گزرا ہي نہيں
ياد کے دائرے کيوں پھيلتے جاتے ہيں شکيب
اس نے تالاب ميں کنکرا ابھي پھينکا ہي نہيں
|