آنکھوں ميں چتائيں جل رہي ہيں ہونٹوں پہ ہے آب آب يارو
تاحد خيال ريگ صحرا تاحد نظر سراب يارو
رہبر ہي نہيں ساتھ اپنے رہزن بھي ہيں ہم رکاب يارو
شعلے سے جہاں لپک رہے ہيں برست گا وہيں سحاب يارو