|
اميد کي کرن ہو کہيں حسرتوں کے داغ
ہر دم نگار خانہ دل کو اجاليے
شايد کہ ان کي سمت بڑھے کوئي دشت شوق
روندے ہوئے گلاب فضا ميں اچھاليے
ہاں کوہ شب کا کاٹ کے لانا ہے جوئے نور
ہاں بڑھ کے آفتاب کا تشيہ سنبھاليے
وجدان کي ترنگ کا مصرف بھي ہو شکيب
شاعر کي عظمتوں کو ہنسي ميں نہ ٹاليے
|